تزک درویشی ، ۱

مورخہ بیس دسمبر 2012 عیسوی
dervish__995845
آج ہم مراقبے میں ڈوبے ہوئے خدمت گار خاص برخوردار قادری سے پاوں دبوا رہے تھے۔ اچانک اس نے پاوں پر ہاتھ زور سے مار کر مروڑ دیا۔ ہم اونگھ سے جاگ گئے اور اس ناہنجار کو کس کر لات رسید فرمائی اور اس کے ہم نشینوں میں اس کا رتبہ بڑھایا۔ وہ اٹھ کر کورنش بجالایا اور دوبارہ پاوں دابنے لگا۔ ہم نے کھڑکی سے باہر دیکھا اور پھر آہ بھر کر فرمایا ‘بس، اب بہت ہوگیا ہے۔ اب میں مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ پاکستان کے لیے سامان باندھو’۔

برخوردار قادری ہڑبڑا کر بولا ‘قبلہ کدھر؟ پاکستان؟’۔

ہم نے فرمایا ‘ہاں، پاکستان۔ اب جانا ہی ہوگا۔ اب حالات نے مجبور کردیا ہے’۔

برخوردار خان گھبرا کر بولا ‘مگر ادھر طالبان تو آپ کی جان کے دشمن ہیں۔ اور لشکر جھنگوی والے بھی۔ اور سپاہ صحابہ والے بھی۔ قبلہ یہ سب آپ نے کینیڈا میں سیاسی پناہ کی درخواست میں واضح کردیا تھا کہ آپ کی جان کو کتنے خطرات ہیں’۔

ناسمجھ خدمت گار۔ اپنی اوقات میں رہ۔ اب تو بھی سوچنے لگا۔ یہ کام کبھی ہم نے نہیں کیا تو تجھے کرنے کی جرات کیسے ہوئی؟ ہم نے اسے جھاڑ پلائی۔ خدمت گاروں کے کھانے پینے کا ہم ہمیشہ سے ہی بہت خیال رکھتے آئے ہیں۔

پھر ذرا توقف دے کر فرمایا ‘طالبان سردیوں میں اپنے گھر میں ہی رہتے ہیں۔ کاروائیاں نہیں کرتے۔ ویسے بھی کافی عرصے سے انہوں نے لاہور اور اسلام آباد کا رخ نہیں کیا ہے۔ اور اب مزید برداشت نہیں ہوتا۔

خدمتگار بولا’ قبلہ معافی چاہتا ہوں۔ لیکن کیا برداشت نہیں ہوتا؟

کینیڈا کا دسمبر اب برداشت نہیں ہوتا۔ بہت سردی ہے۔ پاکستان چلتے ہیں۔ مریدین کو زیارت بھی کرادیں گے اور ساتھ دھرنا بھی دے دیں گے۔ ٹی اے ڈی اے کے اچھے پیسے بن جائیں گے۔ کل ہی خطبے میں اعلان کرتا ہوں چندہ جمع کرنے کا۔ ویسے بھی اس دفعہ یہاں کی فرنگی حکومت سے ملنے والا ویلفئیر کا چک مہینے کے پہلے پانچ دن میں ہی صفا چٹ ہوگیا ہے۔ کچھ کرنا تو پڑے گا۔

برخوردار قادری تائید میں سر ہلا کر پاوں دابنے لگا۔ اور پھر بولا ‘وہاں کوئی عبوری حکومت کا بھی تو پروگرام بن رہا ہے شاید۔ کل خلیفہ متوکل قادری صاحب ذکر کر رہے تھے’۔

ہم بے اختیار اچھل کر بولے ‘یہی وجہ لگتی ہے۔ کینیڈا کا یخ بستہ سرد برفیلا اور اداس دسمبر تو محض بہانہ بنا ہے۔ ہمیں یہی اشارہ ہورہا تھا کہ پاکستان جاکر قوم کی نگرانی کرو۔ فوراً مریدین کو بتاو کہ پاکستان جانے کا حکم ہوا ہے، اور نذر کا بندوبست کرکے پاکستان سفر کے انتظامات مکمل کرو۔

مورخہ بائیس دسمبر 2012 عیسوی

ہم نے پاکستان کی سرزمین کو اپنے مبارک قدوم سے بابرکت کیا اور حالات سے آگہی چاہی۔ برخوردار قادی خبر لانے کے لیے نکلا ۔ کچھ دیر میں ہی واپس آکر کہنے لگا ‘حضور خوشخبری ہے۔ ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کے درویشوں نے قبلہ کی آمد پر لنگر بٹوانے کا اعلان کیا ہے۔ سارے مریدین کو تقسیم کریں گے’۔

ہم نے سر ہلا کر اس کو دیکھا گویا زبان حال سے فرما رہے ہوں کہ دیکھا، ہم نہ کہتے تھے کہ اچھا بندوبست ہوجائے گا۔

وہ ہمیں خوش دیکھ کر مزید بولا ‘کراچی والے پیر صاحب نے بھی اپنے مریدین سے خطاب کرنے کے لیے حضور کو سندیسہ بھیجا ہے اور وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے سارے مریدین قبلہ کے ساتھ ہی اسلام آباد کا رخ کریں گے’۔
ہم کرسی پر ذرا پھیل کر تشریف فرما ہوگئے۔

سونامی خان کا بھی کافی امکان ہے کہ مان جائے گا۔ ویسے اس کی جماعت کا رویہ تو منفی ہی ہے، لیکن اب جب کہ قبلہ پاکستان کی زمین پر اپنے متبرک قدم رکھ چکے ہیں تو وہ بھی ٹھیک ہوجائے گا

ہم نے غصے سے فرمایا ‘کچھ لوگوں کے دلوں پر مہر لگی ہوتی ہے۔ اس ناہنجار کی ہم شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے۔ کوئی بہت ہی کم ظرف ہوگا جو اس کا ساتھی بنے گا۔ ہمیں اشارہ ہوا ہے کہ وہ جس کےساتھ ملا، اس کی تقدیر ہی پھوٹے گی’۔

مورخہ تئیس دسمبر 2012 عیسوی

اگلے دن مریدین نے لاہور میں جلسے کا بندوبست کیا۔ ہم نے وہاں موجود خلقت کے اژدھام کو دیکھا تو طبیعت نہایت بشاش ہوئی۔ منتظم قادری کو بلا کر خوب شاباش دی۔ مگر جب اس نے خرچے کا حساب دیا تو طبیعت بہت منغض ہوئی۔ یہ درست ہے کہ کافی مجمع اکٹھا ہوگیا تھا، لیکن منتظم خان کا ہاتھ بہت کھلا ہے۔ بہت زیادہ خرچہ کردیا تھا صدقہ و خیرات کی مد میں۔ طرح طرح کے بہانے بنانے لگا کہ اب کارکن بہت سیانے ہوگئے ہیں اور شرکت پر خرچہ پانی زیادہ مانگنے لگے ہیں۔ مگر ہم نے اسے ڈانٹا کہ ہم تو درویش ہیں، ہمیشہ لیتے ہی رہے ہیں۔ دینے کی عادت بد میں کبھی مبتلا نہیں ہوئے۔ صرف دینے والے مریدین کو حاضری کا حکم دینا تھا۔ تس پہ اس ناہنجار نے سامنے بیٹھے لوگوں کی طرف اشارہ کیا اور بولا ‘خطاب کا رنگ نہیں جمنا تھا۔ قبلہ جیسا عظیم خطیب ہو اور سننے والے صرف ڈیڑھ درجن ہوں، یہ کیسے ممکن تھا۔ اس لیے میں نے مال کی پرواہ ہرگز نہیں کی۔ ہر جگہ مشتہر کردیا کہ قبلہ آنے والے ہیں۔ سن کر ہی سب دوڑے دوڑے چلے آئے۔ سارا لاہور ہی امنڈ آیا تھا۔ ہمارے جلسوں جیسی بہترین بریانی اب کہیں اور تھوڑا ہی ملتی ہے’۔

بات تو اس کی معقول تھی۔ ہمارے جیسے مقرر کے شایان شان مجمع اکٹھا کر لیا تھا اس نے۔ دیکھ کر طبیعت میں عجب جولانی پیدا ہوئی۔ اب اس اژدھام کو اپنے زریں خیالات سے مستفید کرنا شروع کیا تو لوگ دور اسلاف کے خطیبوں کو بھول گئے۔ آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ برخوردار قادری نے پانی کا گلاس پیش کیا۔ تقریر کا سلسلہ کچھ دیر کے لیے موقوف کیا تو سرگوشی میں کہنے لگا کہ عطا اللہ شاہ بخاری وغیرہ کا نام ہی ہے کہ ساری ساری رات تقریر کرتے تھے اور لوگ جاگتے تھے اور سنتے تھے۔ آپ جیسا سمان کبھی لاہور کے آسمان نے نہ دیکھا ہوگا۔ قبلہ کا کلام کیا ہے، جادو ہے، سحر ہے، افسوں ہے۔ ابھی عصر کا وقت ہے، سورج آب تاب سے چمک رہا ہے، اور محض آدھے گھنٹے میں ہی عصر کے وقت بھی لوگوں کو چمکتے سورج میں اتنی گہری نیند میں مبتلا کرنا کرامت نہیں کہلائے گا تو اسے اور کیا کہیں گے۔ اب قبلہ اگر اور بولے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ سب ہمیشہ کی نیند ہی سوجائیں۔ ان کا اتنا ظرف نہیں ہے کہ آپ کا بیان برداشت کرسکیں۔ ان کے دل پھٹ جائیں گے۔ دماغ کسی کام کے نہیں رہیں گے۔ قبلہ میں منت کرتا ہوں کہ اب بس کریں۔

برخوردار قادری کی بات سن کر ہم نے غور کیا تو واقعی مجمع ایسے پڑا تھا جیسے اب کبھی نہیں اٹھے گا۔ کئی ایک تو زور زور سے خراٹے بھی لے رہے تھے۔ ہم نے رب ذوالجلال کا شکر ادا کیا اور منبر سے اترے۔ منتظم خان نے لوگوں کو جگانے کی کوشش کی مگر ہمارے سحر انگیز کلام نے ان کو باندھ رکھا تھا۔ آخر برخوردار قادری کے ذہن میں تدبیر آئی۔ اس نے آہستہ سے سرگوشی کی ‘کھانا کھل گیا ہے’۔

واللہ میدان حشر میں بھی غالباً یہی منظر ہوگا۔ جم غفیر ایسے اٹھا جیسے صور اسرافیل پھونک دیا گیا ہو اور کھانے پر دھاوا بول دیا۔ ہم ہمیشہ سے سادہ غذا کھانے کے عادی ہیں۔ ہمیشہ سے اس قول کو مقدم جانا ہے کہ انسان کو جینے کے لیے کھانا چاہیے، کھانے کے لیے نہیں جینا چاہیے۔ ہم اپنے ہجرے میں واپس آئے اور لوگوں کے اس ندیدے پن اور مرغن غذاوں کی حرس پر افسوس کرنے لگے۔ برخوردار قادری نے اطلاع دی کہ کھانا لگ گیا ہے اور ہم نے مریدین کا دل رکھنے کے لیے ان کے لائے ہوا مرغ مسلم، سالم قاز، بکرے کی کڑاہی، اور بھنے ہوئے تیتر کی ایک ایک قاب نوش فرمانے کے بعد ملتان سے لایا گیا سوہن حلوہ اور ایک ایک سیر بٹ کا بنایا ہوا گاجر کا حلوہ نوش جان کیا۔ پھر قہوے کی آدھی پیالی نوش فرما کر آرام کرنے لگے تو شکم میں کچھ گرانی سی محسوس ہوئی۔ یہ قہوہ شاید ہم زیادہ پینے لگے ہیں۔ انشااللہ اس کو کم کریں گے۔ ویسے بھی یہ کھانے کی جگہ گھیرتا ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.