تزک درویشی، ۲

مورخہ 13 جنوری سنہ 2013 عیسوی

dervish__995845

آج خراسان کی طرف کے ایک عالم نے مابدولت کے عدل و انصاف، علم پروری اور خوش ذوقی کا شہرہ سن کر دربار میں حاضری کی درخواست پیش کی۔ بابا دوپیازہ سے ان عالم کا احوال دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ملک خراسان کی طرف کے ایک شہر کے عالم بے بدل ہیں اور شیخ ثنا اللہ گوندل منڈوی کے نام سے معروف ہیں۔ چہار دانگ عالم میں ان کی نکتہ رسی کی دھوم ہے۔ جب یہ کالے کوٹوں اور سپید پوشاک میں ملبوس اپنے تین سو شاگردوں کے جلو میں قاضی کے ایوان کی طرف رخ کرتے ہیں تو وہاں موجود شرطوں کا رنگ فق ہوجاتا ہے اور وہ ساری ہیکڑی بھول کر تیر کی طرح سیدھے ہوجاتے ہیں۔ بلکہ اب تو ان کے درس کا وہ شہرہ ہوا ہے کہ قاضی بھی عزت بچانے کی خاطر مصر ہوئے ہیں کہ ایوان میں صرف بند تسموں والے جوتوں والے ہی آئیں۔ کئی قاضی ان سے اختلاف کر کے منہ کی کھا چکے ہیں۔ اعلی پائے کی دلیل دیتے ہیں۔ کند ذہن قاضی نہ سمجھ پائے تو فصیح و غلیظ زبان میں اس سے کلام کر کے معاملے کی سنگینی سمجھاتے ہیں۔ تس پر بھی وہ نابکار نہ مانے تو پھر اس کو کفش مبارک سے زد و کوب کرکے اس کی عزت بڑھاتے ہیں تاکہ اس کے ذہن و دل میں علمائے نکتہ رس کا مقام واضح ہو۔

ہم یہ حال سن کر خوش ہوئے اور شیخ صاحب کو دیوان خاص میں طلب کیا۔ مل کر طبیعت خوش ہوئی۔ واقعی ان کی زبان کی بلاغت ویسی ہی تھی جیسی بابا دوپیازہ نے بیان کی تھی۔ نصف گھنٹہ انہوں نے ہمارے متعلق خلق خدا کی کہی باتیں بیان کیں۔ ہم یہ سن کر خوش ہوئے کہ اب ان بھٹکے ہوئے عوام کو بالآخر حق کو، علم و فضل کو، علم و دانائی کو پہچاننے کی سمجھ نصیب ہوئی ہے اور ان کے ذہنوں پر پڑے ہوئے قفل کھل گئے ہیں۔  فوراً رکابدار کو حکم دے کر صندل دیپ کا سیاہ سیال آتشیں پیش کرنے کا حکم دیا۔ وہ کہیں سے چند مرغ زریں پکڑ کر ان کے پیٹیز اور ان کے انڈوں کا کیک بنوا لایا اور اس سیال آتشیں کے ساتھ پیش کیا۔ ہم شیخ کے علم کے معترف ہوئے جب انہوں نے بتایا کہ لنکا میں اس مشروب شاہان کو چائے کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ اسلام آباد کے شہر میں ظلم و فسق کی انتہا ہوگئی ہے۔ کسی مرد درویش کو وہاں جاکر حالات کو درست کرنا چاہیے اور بھٹکی ہوئی قوم کو راہ پر لانے کی ضرورت ہے۔ بتا رہے تھے کہ کہیں پنڈی کی طرف سے ابھی وہ خود بھی ہو کر آرہے ہیں۔  گھنٹے بھر کی نشست رہی اس کے بعد وہ دیوان خاص سے رخصت ہو کر سمندر کی طرف روانہ ہوئے۔ بتا رہے تھے کہ سمندر کو جاننے کے لیے پہلے تحصیل سمندری میں کچھ وقت گزارِیں گے تاکہ احوال بحر سے واقفیت پائیں۔

مورخہ 14 جنوری سنہ 2013 عیسوی

ادھر وقائع نگاروں نے خبر دی تھی کہ پہاڑ برف تلے دبے ہوئے ہیں۔ مابدولت کو یقین نہیں آیا کہ اتنی برف بھلا کون سا کارخانہ بنا سکتا ہے۔ لیکن وقائع نگاروں نے مسلسل یہی خبر بھیجی تو ارادہ کیا کہ خود تحقیق کی جائے اور ان کاذبوں کا منہ بند کیا جائے چنانچہ پہاڑوں کا قصد کیا۔ ابھی آدھے راستے تک ہی پہنچے تھے کہ تھکن محسوس ہوئی۔ برخوردار قادری نے یاد دلایا کہ قرب و جوار میں ہی بابا دوپیازہ گولڑوی کی خانقاہ ہے۔ طبیعت بھی کسلمندی پر مائل تھی۔ ارادہ باندھا کہ بابا دوپیازہ گولڑوی کو زیارت سے سرفراز کرکے ان کا مقام ان کے رفقا میں بلند کریں۔ فوراً ہرکارہ دوڑایا کہ بابادوپیازہ کو خبر کی جائے۔

بابا دوپیازہ کا تعلق قبائلی علاقے سے ہے۔ ان کووہاں  بعض کرامات دکھانے کی وجہ سے ترک وطن کرنا پڑا اور وہ صوفیا کی سرزمین میں آبسے. گو کہ انہوں نے تائب ہونے کا اعلان کیا تھا مگر اہل علاقہ بھی صاحب کرامت تھے اور ان کو بحفاظت سرحد پار کرادی.

بیان کیا جاتا ہے کہ وہ چلتے چلتے گولڑہ کے مردم خیز خطے میں آپہنچے. یہاِں صوفیا کی تعداد دیکھ کر ان کے دل نے گواہی دی کہ یہاں بہت مریدین مل جائیں گے اور بابا دوپیازہ گولڑوی کا نام اختیار کرکے پہاڑ کے دامن میں تکیہ قائم کیا. ان کی روحانیت کا شہرہ سن کر ہم نے انہیں خرقہ بھیجا اور درویش کے دربار میں مقام عطا کیا۔.

کچھ دیر میں ہرکارہ حواس باختہ واپس آیا۔ اس نے جان کی امان پا کر عرض کیا کہ بابا دوپیازہ گولڑوی اس وقت چلہ کاٹ رہے ہیں۔ عجب بجوگ پڑا ہے ان پر۔ ایک بار وہ اپنے مرشد کے لیے سردائی میں مناسب مقدار میں تصوف نہیں ڈال سکے تھے تو ان کے مرشد نے غصے میں ان کو بددعا دے ڈالی کہ جا بچہ، ہر ہفتے تجھے وہ مشکل اٹھانی پڑے کہ دین و دنیا دونوں کو بھول جائے اور استغار کرے۔ سنا ہے جب سے ہی وہ چاہیں یا نہ چاہیں، ہر سنیچر اپنے سسرال کی راہ پر بھیج دیے جاتے ہیں۔

یہ المناک داستان سن کر ہم نے برخوردار قادری کو حکم دیا کہ ہرکارے سے  پچاس روپے نذر لے کراس کو جان کی امان دے دی جائے اور اس کی تنخواہ میں سے یہ رقم کاٹ لی جائے۔ تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ بابادوپیازہ کا ایک مرید افتاں و خیزاں آیا اور بتایا کہ پیر صاحب ہماری قدم بوسی کے منتظر ہیں۔ ہم نے اس کو بھی جان کی امان دینے کا حکم دیا۔ بچارہ کافی رویا پیٹا لیکن برخوردار قادری نے اس سے نذر کے پیسے دھروا ہی لیے۔ بابادوپیازہ کے مریدین کافی خسیس طبع معلوم ہوتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اپنے مرشد کا کافی اثر ہے ان پر۔

ہم نے سواری نکالنے کا حکم دیا۔ اس پر بیٹھے ہی تھے کہ برخوردار قادری نے عرض کیا کہ شاہان سلف جب بھی خانقاہ سے باہر قدم رنجہ فرماتے تھے تو رعایا کو اپنے دیدار سے سرفراز کرتے تھے۔ خواہ ایک کوس دور بھی جانا ہو تو دس کوس کا چکر کاٹنا واجب ہے تاکہ شہر بھر میں ٹھٹ کے ٹھٹ لگ سکیں۔ ہم نے اس کی وفاداری پر خوش ہو کر اس کو وثیقہ کے وصول کردہ پچاس روپے رکھنے کی اجازت دے دی اور سواری کا رخ پنڈی شہر کی طرف موڑنے کا حکم دیا۔

پنڈی کے عامل میاں شہباز نامی ایک شریف ہیں۔ ہماری آمد کی اطلاع غالباً ان کو پہلے ہی مل گئی تھی۔ عوام کو اکٹھا کرنے کے لیے بہت ہی قلیل وقت میں انہوں نے وہاں جگہ جگہ گڑھے کھدوا کر رونق لگا دی۔ خلق خدا کا ایسا اژدھام ہوا کہ گاڑی سے گاڑی چھلنے لگی۔ پندرہ منٹ کا سفر ڈیڑھ گھنٹے میں طے کرکے وہاں کے ایک مصور خانے پنچے کیا۔ معلوم ہوا کہ راولپنڈی کے قصبے میں بھی اب کم سن جوانوں اور دوشیزاوں کو مصوری اور بت سازی سکھائی جانے لگی ہے۔

 یہ سن کر ہم نے اشتیاق ظاہر کیا کہ دیکھا جائے کہ نئی نسل کیا بنا رہی ہے۔ وہاں کے منتظم نے جھٹ ایک نوجوان کو ساتھ کردیا کہ ہمیں راستہ دکھا کر عزت پائے۔

عجب پاکھنڈ تھا۔ ایک مہ وش نے ایک گنجے شخص کے سر پر چوزہ بنا کر اس کی تصاویر لٹکا رکھی تھیں۔ کبھی چوزہ اس کے سر پر ہوتا، کبھی شانے پر، کبھی دائیں کبھی بائیں۔ بہرحال، ہم نے یہ ظاہر مت ہونے دیا کہ ہمیں اس کی سمجھ نہیں آئی۔ اس مصورہ کی پروازِخیال کی تعریف کرکے اگلے شاہکار کا رخ کیا۔

غالباً اس مہ رخ سے اس کے گھر والے کافی ناراض تھے اور اس کو گھر سے نکال دیا تھا، کیونکہ اس نے دیوار پر دو اٹیچی باندھ رکھے تھے۔ مابدولت کو پوچھے بغیر ہی اندازہ ہوگیا کہ کیا ماجرا ہوگا۔ وہ دل آرام کافی بدسلیقہ معلوم ہوتی تھی۔ سامان سے پائجامے کی دو ٹانگیں نکلی ہوئی تھیں جس پر موزے بھی ٹنکے ہوئے تھے اور اوپری اٹیچی سے ایک چٹیا بھی باہر جھانک رہی تھی۔ درمیان میں اون کے دو گولے بھی سامان کے اندر رکھنے کی بجائے دیوار پر کیل سے ہی ٹانگ دیے تھے۔ ہم نے برخوردار قادری کو اشارے سے قریب آنے کا حکم دیا اور سرگوشی میں اس سے فرمایا کہ اگر اس کی والدہ اس کو گھرداری سکھانے پر توجہ دیتی تو کم از کم یہ سامان تو باندھنا سیکھ جاتی اور اس طرح دیس دیس میں برے حالوں نہ پھرتی۔ برخوردار قادری نے جواباً سرگوشی کی کہ حضور، یہ تجریدی آرٹ کہلاتا ہے۔ اس نازنین نے گھر سے پرانا ساز و سامان نکال کر دیوار پر ایک پری بنائی ہے۔ یہ سن کر ہمیں یقین نہیں آیا مگر جب منتظم نے بھی تصدیق کی کہ واقعی یہ ایک پری ہے جسے جدید آرٹ میں پیش کیا گیا ہے تو لاحول پڑھ کر باہر نکلے۔ اور ڈیڑھ دو گھنٹے کا مزید سفر کر کے بابا دوپیازہ گولڑوی کی خانقاہ پہنچے۔

 بابا دوپیازہ چشم براہ تھے۔ ان سے معلوم ہوا کہ کچھ دیر پہلے ہی شیخ ثنا اللہ گوندل منڈوی وہاں سے رخصت ہوئے ہیں اور وزیر آباد کے میر تجار جو شیر کی کھال، ہڈی اور چربی کی تجارت کرتے ہیں اور میر اسد کے نام سے حکما میں مشہور ہیں، ہمارے دیدار کا شرف حاصل کرنا چاہ رہے ہیں۔ کچھ دیر میں وہ افتاں و خیزاں ہماری خدمت میں پہنچ گئے۔ کہنے لگے کہ کسی پٹھان کو شیر کی کھال انہوں نے مبلغ ستر ہزار میں بیچ ڈالی تھی۔ وہ واپس درہ آدم خیل پہنچا تو کسی نے اس کو بتایا کہ یہ شیر کی نہیں بلکہ گربہ کی کھال ہے۔ شیر اس سے عام طور دس بیس گنا بڑا ہوتا ہے اور اس کا رنگ بھی کالا نہیں ہوتا۔ پٹھان اب ان کو ڈھونڈتا پھر رہا تھا۔ بابا دوپیازہ یہ سن کر مسکرائے اور بولے ‘اس کندہ نا تراش کو بتاو کہ تم کو شیر نہیں بلکہ اس کی خالہ کا کھال دیا ہے جو زیادہ قیمتی ہوتا ہے اور بیس ہزار اور وصول کرلو۔ میں درے میں ساری عمر رہا ہوں۔ وہاں تجارت ایسے ہی ہوتی ہے۔’

میر اسد یہ سن کر وجد میں آگئے اور بے اختیار بابا دوپیازہ کے ہاتھ چوم لیے اور ایک روپیہ ان کی نذر کیا۔ پھر تین ساعت تک بابا دوپیازہ نے میر اسد کو تجارت کے گر سمجھائے۔ میر اسد نے جواب میں ان کو بریانی بنانے کا قدیم خاندانی نسخہ نذر کیا لیکن بابا دوپیازہ مصر ہوئے کہ یہ تم ہی بنانا کیونکہ ہمارا خدمت گار خاص بھی پٹھان ہی ہے اور دوپیازہ کے علاوہ جو کچھ بھی بنائے اس کا ذائقہ ایک ہی ہوتا ہے۔

بابا دوپیازہ گولڑوی عجب باغ و بہار طبیعت کے مالک ہیں.غیبت, عیب جوئی اور مخبری میں درجہ کمال پایا ہے. بھانت بھانت کے لوگوں کو جمع کرکے ان کو طرح طرح کے قصے کہانیاں سناتے ہیں. بہت کچھ سنتے ہیں. اور سردھنتے ہیں.

بابا دو پیازہ کا محبوب موضوع سکالا شہر کے ایک ملامتی درویش میاں فغفور نقل خوجی ہیں۔ بابا دوپیازہ بیان کرتے ہیں کہ میاں خوجی شہر شہر، قریے قریے، گروہ گروہ سے علم و دانش کے موتی اکٹھے کرتے ہیں اور ہر جگہ نقل کر آتے ہیں۔ نیت نیک رکھتے ہیں۔ اعمال نیک تر ہیں۔ لیکن ملامتی مشہور ہوگئے ہیں۔ صاحبو اب وہ زمانہ ہی کہاں رہا کہ لوگ علما کی راہ میں پلکیں بچھایا کرتے تھے۔ اب تو کانٹے ہی بچھاتے ہیں۔ بھلائی کی بات کریں تو خلق بے اختیار پکار اٹھی ہے کہ صاحب، تم سے صاحب سلامت بس دور ہی کی اچھی۔

مگر صاحب ہیں کمال کے حق گو۔ جس کی حمایت کریں، اس کو سب ہی ملامتی قرار دے دیتے ہیں۔ چن کر موضوع اٹھاتے ہیں۔ اور دلائل کے انبار لگا دیتے ہیں۔ مضمون کو پانی کردیتے ہیں۔ اور جس کی حمایت کر رہے ہوں، وہ بھی پانی پانی ہوجاتا ہے۔

کمال کی سادگی پائی ہے۔ ابھی پچھلے دنوں ہی چند سرپھرے ملاوں کا قبلہ درست کرنے کا عزم کیا۔ مقصد محض یہ تھا کہ فرقوں اور مسلکوں میں بٹی ہوئی قوم متحد ہو جائے۔ چند افکار پریشان رقم کیے اور ان رزم آرا ملاوں کے حضور پیش کیے۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ وہ اپنے مقصد میں ناکام ہوگئے اور ان حربیوں کو متحد نہ کرسکے۔ واللہ وہ سب متحد ہوئے۔ سب اپنے اپنے اختلافات بھلا کر اک مٹھ ہو کر ان کی ملامت کرنے لگے۔ بہرحال، ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ نتائج کو دیکھا جائے تو یہ ایک کامیابی ہی گنی جائے گی۔

ان کی سادگیِ طبع کا ایک اور واقعہ بابا دو پیارہ نے سنایا۔ کہتے تھے کہ ایک دن بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ بھیڑ چال کا قدیم حکما نے بہت تذکرہ کیا ہے، جاننا تو چاہیے کہ یہ کیا ہے۔ کہ جو اقوام بھیڑ چال کا شکار ہوں، وہ چرخ کج رفتار کا لقمہ بن جاتی ہیں۔ سو وہ باہر نکلے اور بھیڑ کی تلاش میں سرگرداں ہوئے۔ سکالا میں تو کوئی سالم بھیڑ نہ ملی کہ وہاں وہ صرف کباب سیخ کی صورت میں ہی پسند کی جاتی تھیں۔ بھیڑ کے کباب کو چلانے کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں تو ان کی یاس انگیز صورت دیکھ کر کبابیے نے ان کو مشورہ دیا کہ مضافات میں جاکر تلاش کریں اور کسی زندہ بھیڑ کو چلانے کی کوشش کریں۔ سو وہ شہر سے باہر نکلے اور بھیڑ تلاش کرنے لگے۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ان کی متجسس اور بھولی بھالی سی شہری صورت دیکھ کر ایک شخص ان سے ملا اور ان سے پوچھا کہ میاں صاحب، کس کی تلاش ہے؟

وہ پہلے تو حیران ہوئے اور پھر اس شخص کے ہاتھ چوم کر بولے “حضور آپ ہی کی تلاش تھی۔ آپ روشن ضمیر معلوم ہوتے ہیں اسی لیے بلا پوچھے ہی جان لیا کہ خاکسار کو میاں خوجی کے نام سے یہ اہل جہاں پکارتے ہیں۔”

وہ شخص مسکرایا اور بولا ‘میاں ہماری خطا معاف کرو۔ یہ بڑی بھول ہوئی ہے ہم سے۔ ورنہ ہمارے مرشد نے سختی سے تاکید کی تھی کہ جب تک کوئی شخص زبان سے کسی بات کا اقرار نہ کرے، اس پر ظاہر مت ہونے دینا کہ تم علوم باطنی سے واقف ہو اور لوگوں کے دلوں میں جھانک لیتے ہو۔ تو میاں، ہماری خطا معاف کرو اور دعا کرو کہ مرشد کے دربار میں بھی ہمیں معافی ملے۔ اب بتاو کہ کس چیز کی تلاش تمہیں یہاں کھینچ لائی ہے؟’

میاں خوجی سمجھداری سے سر ہلا کر بولے ‘میں سمجھ گیا۔ آپ ملامتی صوفی لگتے ہیں۔ ظاہر سے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ وہ آپ کے گرد ہجوم کرکے آپ کو دنیا کی فضولیات کی طرف مت کھینچ لائین اور سکون سے ریاضت و عبادت میں مگن رہنے دیں۔ آپ جانتے ہی ہیں، مگر بہرحال بتا دیتا ہوں، میں بھیڑ نامی جانور کی تلاش میں ہوں تاکہ بھیڑ چال کا راز جان سکوں۔’

وہ صوفی بولا ‘اے شخص، جس کا نام میں نہیں لے سکتا، لگتا ہے کہ تو یہاں خود سے نہیں آیا بلکہ تجھے تیری تقدیر صحیح مقام پر لے آئی ہے۔ میں تجھے بھیڑ دے سکتا ہوں۔ قیمت تو اس کی بیس ہزار ہے، لیکن کیونکہ تو خود نہیں آیا بلکہ بھیجا گیا ہے، میں تجھے یہ صرف دس ہزار میں دینے پر مجبور ہوں کہ مجھے یہی حکم ہوا ہے۔’

میاں خوجی پھولے نہ سمائے اور فورا اس کی خدمت میں دس ہزار پیش کیے۔ اس نے میاں خوجی کو زنجیر سے بندھی ہوئی ایک سپید بالوں والی بھیڑ دی اور بولا ‘شیطان اور اس کے چیلےتجھ سے یہ بھیڑ چھیننے کی بہت کوشش کریں گے، مگر تو نے ان کے جال میں نہیں آنا۔ وہ طرح طرح کے سوانگ بنائیں گے۔ طرح طرح سے تجھے چکر دینے کی کوشش کریں گے۔ مگر ان کے بہکاوے میں مت آئیو۔ سیدھا گھر جائیو۔’

میاں خوجی نے زنجیر تھامی اور گھر کی راہ لی۔ سکالا میں داخل ہوئے تو وہاں کے ایک مشہور عالم  شیخ فضل نظر آئے۔ بولے ‘میاں خوجی، یہ نجس جانور کیوں ساتھ لیے پھرتے ہو؟’

میاں خوجی سمجھ گئے کہ یہ شیطان ہے جو شیخ فضل کے روپ میں آگیا ہے۔ منہ پھیر کر آگے چل دیے۔ آگے ایک بزرگ سید مقدس ملے۔ وہ بھی حیران ہوئے کہ میاں خوجی کیوں نجاست ساتھ لیے پھرتے ہیں۔ میاں خوجی نے پھر راہ بدلی۔ دس راہیں بدل کر بمشکل گھر پہنچے اور صحن میں بھیڑ کو چھوڑ کر اس کی چال کا مشاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ اسی دم پڑوسن کی بلی دیوار پھاند کر ان کے صحن میں کودی۔ بھیڑ یکایک غرائی اور بھونکتی ہوئی بلی کے پیچھے بھاگی۔ بلی کھلے دروازے سے باہر گلی میں نکل گئی اور بھیڑ بھونکتی ہوئی اس کے پیچھے پیچھے بھاگی اور پھر کبھی میاں خوجی کو نظر نہ آئی۔

میاں خوجی سر ہلا کر بولے ‘آج بھیڑ چال کی سمجھ آئی ہے۔ بلاوجہ کسی ایسے مقصد کی تلاش میں نکل جانا جس کا کوئی فائدہ نہ ہو اور چل چل کر ہلکان ہوجانا بھیڑ چال کہلاتا ہے۔ بھلا یہ بھیڑ اس بلی کو پکڑ بھی لے تو کیا حاصل کر پائے گی۔ بلی بھیڑوں کے بھلا کس کام کی؟’

ملا دوپیازہ یہ واقعہ سنا کر خاموش ہوئے اور ہم میاں خوجی کی سادگی پر حیران ہوئے۔

تین ساعت کے بعد ہم نے ان دونوں کو رخصت کی اجازت دی اور خانقاہ سے باہر نکلے۔ رعب درویش سے چاند تاروں پر لرزہ تاری ہوا اور دو قدم بھی دیکھنا دوبھر ہوا۔ برخوردار قادری نے التماس کیا کہ ہم دو گھڑی رک جائیں اور مابدولت کا چشمہ ململ کے کپڑے سے صاف کیا۔ اس سے دھند کو کافی افاقہ ہوا اور ہماری سواری نے ہمیں جلد ہی ہمارے درویشی کنٹینر پہنچا دیا۔

 

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.