تین سادے لوگ. میر، خان صاحب اور سردار لہنا سنگھ جی

Spread the love

تین سادے لوگوں کا ماجرا، جو اپنی سادگی کے ہاتھوں پریشان ہوئے پھرتے تھے۔

ik-2 7_17889

[urdu size=”20″]

ہمارے لیڈر عمران خان صاحب فرماتے ہیں کہ “جوڈیشل کمیشن کی انکوائری میں منظم دھاندلی کا لفظ ڈال کر ہمیں پھنسایا گیا، یہ لفظ ن لیگ نے ڈلوایا تھا”۔

اور مزید فرماتے ہیں کہ “انتخابی دھاندلی کے حوالے سے تحقیقات کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی”۔

ایک سوال پیدا ہوتا ہے. اور وہ یہ ہے کہ بندہ خان صاحب کی اس سادگی پر اب ہنسے یا روئے؟ خان صاحب یہ بات تو پہلے روز سے ہم جیسے کم عقلوں پر بھی عیاں تھی کہ منظم دھاندلی اگر ہوئی بھی ہے تو اسے ثابت کرنا ناممکن ہو گا۔ منظم کا لفظ ہی کمیشن کا فیصلہ بتا گیا تھا۔ اگر 126 روز کے دھرنے کے دوران چلنے والے، اور بعد میں دو تین مہینے چلنے والے مذاکرات میں غور و فکر میں بھی تحریک انصاف کو یہ پتہ نہیں چل سکا، تو پھر سبحان اللہ۔ حلقوں کی نمایاں تعداد میں بے ضابطگی پر کمیشن کی بات کی جاتی تو پھر بھی امکان تھا کہ فیصلہ حق میں ہوتا۔ خان صاحب کی سادگی، ن لیگ کی پرکاری کے سامنے بے بس ہے۔

اور انتخابی دھاندلی کے متعلق اگر ن لیگ ہی کی حکومت سے تحقیقات کروانی ہیں، تو اس کا نتیجہ بھی آپ کو پہلے ہی معلوم ہونا چاہیے۔ سادگی کی انتہا ہے خان صاحب، خدارا اب یہ مطالبہ نہ کر بیٹھیے گا۔

ہماری تیز و طرار سیاست میں خان صاحب جیسے سادے بندے کا چلنا نہایت مشکل نظر آ رہا ہے۔ میر تقی میر نامی ایک اور اتنا سادہ بندہ اس خطے کی تاریخ میں خان صاحب سے پہلے گزرا ہے جو اپنی ایسی ہی سی سادگی کا ماجرا کچھ یوں بیان کر گیا ہے

میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اُسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

خان صاحب کو بھی ن لیگی حکومت سے انتخابی تحقیقات کی گولی لینے سے احتراز کرنا چاہیے۔

ویسے خان صاحب اور میر صاحب کی سادگی دیکھتے ہوئے حسب معمول سردار لہنا سنگھ جی جلسیانوالہ کی سادگی بھی یاد آ گئی ہے۔ سنا ہے کہ ایک مرتبہ سردار لہنا سنگھ جلسیانوالہ جی اپنی راہ جا رہے تھے کہ سڑک پر شور شرابہ کرتا ایک مجمع دیکھا۔ وہ قریب کھڑے ایک بندے سے پوچھنے لگے کہ موتیاں والیو، یہ کیا ہو رہا ہے؟ بندے نے کہا کہ سردار جی، آپ خود دیکھ تو رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔

سردار جی کو سمجھ نہ آیا اور وہ آگے بڑھے۔ مجمعے کے قریب پہنچے تو کچھ آدمی آپس میں دست و گریباں نظر آئے۔ ایک لڑتے ہوئے بندے کا شانہ ہلا کر اس سے پوچھنے لگے کہ موتیاں والیو، یہ کیا ہو رہا ہے۔ اس بندے نے سردار جی کی پگڑی کھینچ کر زمین پر پھینکی اور انہیں دھکا دے کر ایک طرف کر دیا اور اپنی لڑائی لڑنے میں مصروف ہو گیا۔ سردار جی نے پگڑی اٹھائی اور سر پر ٹکا کر لڑائی کے مرکز میں پہنچ کر ایک دوسرے بندے کا ہاتھ پکڑ کر اس سے پوچھنے لگے کہ موتیاں والیو، یہ کیا ہو رہا ہے؟

اس بندے نے اپنا ہاتھ چھڑا کر سردار جی کو ایک چانٹا رسید کر کے ایک طرف کیا اور دوبارہ لڑائی میں مصروف ہو گیا۔ سردار جی سادہ بندے تھے، ان کو اب بھی معاملہ سمجھ نہیں آیا۔ وہ پھر لڑتے ہوئے ایک تیسرے بندے کے دونوں بازو پکڑ کر اس سے پوچھنے لگے کہ موتیاں والیو، یہ کیا ہو رہا ہے؟ جتنی دیر میں سردار جی اس بندے کے بازو پکڑے رہے، اس کو چار پڑ گئیں۔

اس غصے میں بھرے بندے نے سردار جی سے اپنا بازو چھڑایا اور ان کی ناک پر ایک گھونسہ رسید کر کے انہیں ناک آؤٹ کر کے اپنی راہ سے ہٹایا، اور اپنی لڑائی میں مشغول ہو گیا۔

سردار لہنا سنگھ جی غش کھا کر گر گئے۔ کچھ دیر میں ہوش و حواس بحال ہوئے تو سر پر پاؤ رکھ کر وہاں سے بھاگے خود کو کہنے لگے “اوئے سردارا، لگتا ہے کہ یہ تو لفڑا ہو رہا ہے۔ بھاگ یہاں سے”۔

ہم تحریک انصاف کے ووٹر بھی سردار لہنا سنگھ جلسیانوالہ ہی کی سی سادگی پر قربان ہوئے جاتے ہیں۔ مگر آخر کب تک؟

[/urdu]

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.