ترکی میں صدر ایردوان کی فتح

turkey1
ترکی کے الیکشن تمام ہوئے، اور خلاف توقع نتائج اتنے ناقابل تھے کہ فاتح اے کے پی پارٹی کو بھی ان پر شدید حیرت ہوئی ہے۔ جون میں ہونے والے الیکشن میں اے کے پی کو تقریباً چالیس فیصد ووٹ ملے تھے، اور نومبر کے ری الیکشن میں انہیں تقریباً پچاس فیصد ووٹ ملے ہیں۔ ریپلکن پارٹی کے ووٹوں میں معمولی سا اضافہ ہوا ہے، لیکن انتہائی دائیں بازو کی ایم ایچ پی، کو تقریباً ساڑھے چار فیصد اور کرد پارٹی ایچ ڈی پی کو تقریباً پونے تین فیصد ووٹروں نے دغا دی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان میں ایم ایچ پی رہی ہے، جس نے جون میں 80 سیٹیں جیتی تھیں، اور نومبر میں اس کے حصے میں 40 سیٹیں آئی ہیں۔ کرد ایچ ڈی پی نے جون میں 80 سیٹیں جیتی تھیں اور اب اس کے حصے میں 59 سیٹیں آئی ہیں، لیکن اس کی بڑی کامیابی یہ گنی جا رہی ہے کہ یہ کل ووٹوں کا دس فیصد سے زائد حاصل کر کے پارلیمنٹ میں داخل ہونے میں کامیاب رہی ہے۔ ریپبلکن پارٹی نے جون میں 132 سیٹین جیتی تھیں اور اب اس کے حصے میں 134 سیٹیں آئی ہیں۔ اور پچھلے الیکشن میں 258 سیٹیں پانے والی اے کے پی نے اب 317 سیٹیں جیتی ہیں اور کسی اتحادی کے بغیر اپنی پارٹی کی حکومت بنانے کی اہل ہو گئی ہے۔صرف پانچ مہینے کی مختصر مدت میں سیٹوں میں یہ رد و بدل کیوں ہوا؟سب سے زیادہ نقصان ایم ایچ پی کو ہوا۔ جون کے الیکشن کے بعد ایم ایچ پی نے کسی بھی ایسی حکومت یا اتحاد کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تھا جس میں کرد پارٹی ایچ ڈی پی شامل ہو۔ حتی کہ اس کے لیڈر دولت باہیچلی نے ریپبلکن پارٹی کی طرف سے وزارت عظمی کی پیشکش بھی ٹھکرا دی تھی۔ اور یہ پیشکش بھی مسترد کر دی کہ کرد پارٹی کو شامل کیے بغیر یہ دونوں پارٹیاں ایک اقلیتی حکومت بنا لیتی ہیں۔ اسی اثنا میں ملک میں دہشت گردی میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا اور ووٹروں نے اس عدم استحکام کا ذمہ دار ایم ایچ پی کی ہٹ دھرمی کو ٹھہرایا۔

کرد پارٹی ایچ ڈی پی کی بدقسمتی یہ رہی کہ کرد دہشتگرد تنظیم پی کے کے نے صدر ایردوان کی طرف سے کرد معاملے کے مذاکرات کو معطل کرنے پر ملک کے طول و عرض میں دہشتگردی کی ایک مہم شروع کر دی۔ ایچ ڈی پی جو کہ کردوں کا سیاسی چہرہ تھی، واضح انداز میں پی کے کے کی دہشتگردی کی مذمت کرنے سے کتراتی رہی۔ دوسری طرف وہ خود بھی پی کے کے، اور حکومت کی طرف سے نشانے پر رہی اور اس کے امیدوار کھل کر الیکشن مہم  نہ چلا پائے۔ نتیجے میں وہ پونے تین فیصد ووٹوں اور اکیس سیٹوں سے محروم ہو گئی۔

ریبپلکن پارٹی سی ایچ پی کی پوزیشن میں کوئی نمایاں رد و بدل نہیں ہوا۔

اے کے پی۔ یہ اہم ہے کہ یہ کیسے کل ووٹوں کا دس فیصد اضافہ اپنے بکسے میں ڈلوانے میں کامیاب ہوئی۔ یہ معاملہ تھوڑی سی تفصیل کا متقاضی ہے۔ جون کے الیکشن کے بعد صدر ایردوان نے کوشش کی کہ کوئی مخلوط حکومت نہ بن پائے۔ اس سلسلے میں ایم ایچ پی کی ہٹ دھرمی ان کے لیے کافی مددگار ثابت ہوئی۔ جب نومبر میں الیکشن کا اعلان ہوا، تو اے کے پی نے کئی جہتوں میں کام شروع کیا۔ ایک اہم پیشرفت یہ ہوئی، کہ ستر سے زیادہ وہ اہم ممبران پارلیمنٹ جو پچھلے تین الیکشن سے مسلسل اسمبلی میں منتخب ہونے کی وجہ سے جون میں پابندی کی زد میں تھے، نومبر کے الیکشن میں ان پر سے انتخابات میں حصہ لینے کی پابندی ہٹ گئی اور وہ اے کے پی کے امیدواروں کی فہرست میں شامل ہو کر اس کے ووٹوں میں خاطر خواہ اضافے کا باعث ہوئے۔

دوسری طرف گرتی ہوئی معیشت کو بنیاد بنا کر جون میں الیکشن مہم چلانے پر ووٹروں کو اپنی طرف کھینچنے والی ریپبلکن پارٹی کی کامیابی کو دیکھ کر اے کے پی نے اس کے منشور میں سے چند نکات لے کر اپنی مہم میں ان پر زور دیا۔ عوام نے اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے ساٹھ فیصد ووٹ حاصل کر کے بھی آپسی لڑائی جھگڑے کے باعث حکومت نہ بنا پانے کو ناپسندیدگی سے دیکھا اور اس صورت حال میں صدر ایردوان نے اپنے پتے نہایت مہارت سے کھیل کر ان پارٹیوں کو عوام کی نظر میں ملکی استحکام کے لیے ناقابل اعتبار بناتے ہوئے اپنی پارٹی کو استحکام کی علامت کے طور پر نمایاں کیا۔

صدر ایردوان کے خواب، یعنی نیا آئین بنانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کرد ووٹر ثابت ہوئے تھے۔ کرد علاقے کی پارٹی ایچ ڈی پی پہلی مرتبہ دس فیصد ووٹ لے کر پارلیمنٹ کا حصہ بننے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اس کے اسی ممبران اسمبلی میں پہنچے تھے، جس کے نتیجے میں صدر ایردوان کو آئین کو تبدیل کر کے صدارتی صورت دینے کے لیے مطلوبہ اکثریت نہ ملی، بلکہ آئین تبدیل کرنے کی اکثریت کیا، وہ تن تنہا حکومت بنانے کی سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کر پائے۔ اس صورت میں صدر ایردوان نے کردوں سے مذاکرات کی پالیسی کو معطل کرنے کا اعلان کیا۔ اس کو دیکھتے ہوئے کرد دہشتگرد تنظیم پی کے کے نے دوبارہ ملک میں دہشتگردی کرنی شروع کر دی۔ اس کے ردعمل میں صدر ایردوان کی حکومت نے پی کے کے اور داعش کے خلاف فوجی مہم شروع کر دی جس کو ترکوں نے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور ان کی حمایت میں اضافہ ہوا۔

اس موقعے پر اے کے پی کی نہایت عمدہ اور کارآمد الیکشن مہم کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ اس نے بلدیاتی لیول پر گلی محلے کے لیول پر سیاست کی۔ دوسری طرف اسے میڈیا کی حمایت کا فائدہ بھی تھا۔ سرکاری ٹی وی پر اے کے پی کو زیادہ کوریج ملی۔ دوسری طرف اے کے پی کے مخالف میڈیا کو شدید ریاستی جبر کا نشانہ بنایا گیا۔ مخالف اخبارات اور ٹی وی کو سرکاری کنٹرول میں لے کر اس کے صحافیوں کو جبری رخصت پر بھیجا گیا۔ بہت سوں نے جیل کا منہ بھی دیکھا۔ وہی میڈیا زندہ رہ پایا جو کہ حکومت کا حامی تھا۔

لیکن اہم ترین معاملہ ایک اور تھا۔ جون کی الیکشن مہم اے کے پی نے اس بنیاد پر چلائی تھی کہ وہ ملکی آئین کو پارلیمانی کی بجائے صدارتی نظام حکومت میں تبدیل کر دیں گے۔ اس معاملے کو بہت سے ترکوں نے شدید شک و شبے کی نظر سے دیکھا۔ ملکی میڈیا اور مخالفین پر کریک ڈاؤن کو دیکھتے ہوئے ووٹروں کو یہ اندیشہ تھا کہ ملک صدارتی نظام کے نام پر آمریت کی راہ پر نہ چل پڑے۔ اس کے علاوہ اے کے پی نے جون کا الیکشن نفرت کے نام پر لڑا تھا۔ ایک طرف کردوں سے امن معاہدے کو معطل کیا جا رہا تھا، تو دوسری طرف ایک اہم ترکی عالم دین، فتح اللہ گولن کی خدمت تحریک سے لڑائی مول لی جا چکی تھی۔ خدمت تحریک سے تعلق رکھنے والے میڈیا، اور تجارتی اداروں کو خاص طور پر چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

نومبر کے انتخابات میں اے کے پی نے اس صورت حال کو بدلا۔ ایک طرف کرد ووٹروں سے بات کی کہ ہمارے سے غلطی ہوئی ہے اور ہم تمہیں ساتھ لے کر چلیں گے، اور دوسری طرف خدمت تحریک کی طرف بھی صلح کا ہاتھ بڑھایا گیا۔ خدمت کے میڈیا نے اے کے پی کی مخالفت سے ہاتھ اٹھا لیا اور صدر ایردوان حکومت نے خدمت سے متعلقہ اداروں اور افراد کو جبر کا نشانہ بنانا بند کیا۔

مفاہمت کی ان پالیسیوں کے نتیجے میں اے کے پی کو کھوئے ہوئے ووٹ واپس مل گئے۔ سنہ 2011 کے الیکشن میں اے کے پی نے 49.83 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ جون 2015 کے الیکشن میں یہ گھٹ کر 40.87 فیصد رہ گئے۔ اور اب نومبر 2015 میں یہ دوبارہ بڑھ کر 49.49 ووٹ ہو گئے ہیں۔
turkey2
لیکن انتخابات کے بعد اب اے کے پی کے دو چہرے سامنے آ رہے ہیں۔ ایک وزیراعظم داؤاولو کا چہرہ، جو اے کے پی کی عبداللہ گل کے دور کی مفاہمت اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی پالیسی کی بات کرتے رہے ہیں۔ اور دوسرا صدر ایردوان کا چہرہ، جو مفاہمت کی بجائے ٹکراؤ کی پالیسی کی بات کرتے ہیں اور اب بھی ان کا مقصد صدارتی طرز حکومت کے لیے آئین میں تبدیلی ہے۔ لیکن اس آئینی تبدیلی کے دو ہی راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ اے کے پی 330 ممبران کی حمایت حاصل کر کے آئین کی تبدیلی کے لیے قومی ریفرینڈم کا اعلان کر دے۔ اس مقصد کے لیے اسے دوسری پارٹیوں کے 13  ممبران کی حمایت حاصل کرنا ہو گی۔ یا دوسرا راستہ یہ ہے کہ دوسری پارٹیوں سے مذاکرات کر کے ان سے ملک کر آئین کی تبدیلی کی حمایت حاصل کی جائے۔

صدر ایردوان کے مخالف بھی یہ کہتے ہیں کہ اس شخص کی زبان میں جادو ہے، اور وہ جو ارادہ کرتا ہے وہ ہر طریقے سے پورا کرنے پر جت جاتا ہے۔ اب وقت ہی بتائے گا کہ مرد آہن صدر ایردوان کا یہ خواب پورا ہوتا ہے یا ایک بار پھر شکست مقدر بنتی ہے۔ اگر ترکی کی تاریخ کے اس نازک دور میں جب وہ شام اور عراق کی جنگ میں الجھا ہوا ہے، صدر ایردوان پارلیمانی نظام پر قناعت کر لیتے ہیں، تو یہ ترکی کے لیے بہتر نظر آ رہا ہے۔ اگر وہ اپنی ضد پوری کرنے پر تلے رہتے ہیں اور صدارتی نظام کی طرف بڑھتے ہیں، تو یہ ملک کو مزید انتشار کی طرف لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.