امید کی کہانی

umeed ki kahani

امید کی کہانی
[دیس دیس کی حکایات]

کہتے ہیں کہ ایک شخص کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ لگی اور وہ اٹھنے بیٹھنے تک سے قاصر ہو گیا۔ اس کا نچلا دھڑ مفلوج ہو چکا تھا۔ اسے ہسپتال میں جس کمرے میں رکھا گیا، اس میں ایک دوسرا مریض بھی تھا جس کا بستر کھڑکی کے پاس تھا۔ مفلوج شخص سارا دن بستر پر پڑا چھت کو گھورتا رہتا تھا اور زندگی سے مایوسی کا اظہار کرتا رہتا تھا۔

دوسرا مریض زندگی اور زندہ دلی سے بھرپور تھا۔

دوسرا مریض دن میں ایک دو مرتبہ بستر اونچا کر کے کچھ دیر بیٹھتا اور کھڑکی سے باہر دیکھتا۔

پہلا ہفتہ
پہلا مریض: کاش میں اس حادثے میں مرجاتا۔ یوں معذور تو نہ پڑا ہوتا۔

دوسرا مریض، کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے: آہا، کیا بہترین نظارہ ہے، آج تو گھنے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ جھیل میں لہریں اٹھ رہی ہیں اور بطخیں تیرتے دیکھ کر روح تازہ ہوئی جا رہی ہے۔ یہ چھوٹا سا گپلو گپلو سا بچہ اپنی ماں سے ہاتھ چھڑا کر بطخوں سے کھیلنے لگا ہے۔ دوسرے بچے بھی خوشی سے بھاگ دوڑ رہے ہیں۔ ہلکی ہلکی سی بوندیں پڑ رہی ہیں۔ کاش میں کچھ بہتر ہو جاؤں تو اس پارک کے بینچ پر بیٹھ کر پوری شام گزارا کروں گا۔

دوسرا ہفتہ
پہلا مریض: ایک مفلوج شخص کی بھی کیا زندگی ہو گی۔ مجھے لگتا ہے کہ میں کبھی بھی صحت مند نہیں ہو پاؤں گا اور چھت کو گھورتے گھورتے ایک دن مر جاؤں گا۔

دوسرا مریض: آج تو سرخ اور پہلے رنگ کے نئے پھول کھلے ہیں۔ لوگ ان کے پاس سے ٹہلتے ہوئے گہری گہری سانسیں لے رہے ہیں۔ یہ لو، اس وجیہہ مرد نے ایک پھول توڑ دیا ہے اور اس کو اپنی ساتھی کو نذر کر دیا ہے۔ یہ دونوں کتنے خوش ہیں۔ اپنی زندگی سے کتنا لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

تیسرا ہفتہ
پہلا مریض: پتہ نہیں کبھی میں بھی پارک میں چل پاؤں گا کہ نہیں۔

دوسرا مریض: یہ بوڑھا کتنا خوش قسمت ہے۔ وہیل چیئر پر پارک میں آیا ہے۔ دو کم عمر بچے اس کی وہیل چیئر کو دھکیل رہے ہیں۔ بوڑھا بمشکل کھڑا ہو کر چند قدم چلا ہے۔ اس کے چہرے سے خوشی ٹپکی پڑ رہی ہے۔ لگتا ہے کہ اس نے ایک بھرپور زندگی گزاری ہے اور اسی طرح ہنستے مسکراتے آخری سانسیں بھی لے گا۔ کئی لوگ زندگی کے ہر لمحے سے خوشی کشید کرنے کا فن جانتے ہیں۔

چوتھا ہفتہ
پہلا مریض: کبھی کبھی لگتا ہے کہ میں دوبارہ مکمل طور پر ٹھیک ہو جاؤں گا اور اس پارک میں خود بھی جا سکوں گا۔ اب تو میرے پاؤں بھی دوبارہ حرکت کرنے لگے ہیں۔

دوسرا مریض: یہ چھوٹا سا خاندان آج پکنک کا سامان لے کر آیا ہے۔ خاتون نے چادر بچھا دی ہے اور اس پر کھانا سجا دیا ہے۔ بچے ارد گرد کھیل رہے ہیں۔ خوشی سے ان کے چہرے دمک رہے ہیں۔ مرد گاڑی سے چیزیں لا لا کر چادر پر رکھ رہا ہے۔ سکون اور خوشی اسی کا نام ہے۔

دن ایسے ہی گزرتے رہے۔ آہستہ آہستہ پہلے مریض کی صحت بہتر ہونے لگی اور زندگی میں وہ دوبارہ دلچسپی لینے لگا۔ ایک دن کھڑکی والا مریض سوتے میں ہی چپ چاپ فوت ہو گیا۔ اب تک مفلوج مریض بھی کچھ صحت یاب ہو چکا تھا لیکن وہ کھڑکی کے باہر کے نظاروں کو بہت یاد کرنے لگا تھا جن کے بارے میں اب اسے کوئی نہیں بتاتا تھا۔ وہ اتنا صحت یاب ہوا کہ خود سے بیٹھنے کے قابل ہو گیا تو ایک دن اس نے نرس سے درخواست کی کہ اس کو کھڑکی والے بستر پر منتقل کر دیا جائے۔

نرس نے اس کا بستر منتقل کر دیا اور وہ بے تابی سے اٹھ بیٹھ کہ باہر دیکھ سکے۔ مگر اس کو یہ دیکھ کر شدید حیرت ہوئی کہ اب کھڑکی اور پارک کے درمیان ایک اونچی دیوار بن چکی تھی جس کے دوسری طرف دیکھنا ممکن نہ تھا۔

پہلا مریض: ہسپتال والوں نے پچھلے دنوں یہ دیوار بنا کر ظلم کیا ہے۔

نرس حیرت سے: یہ دیوار تو پچھلے بیس سالوں سے یہیں موجود ہے۔

پہلا مریض: کھڑکی والا مریض تو مجھے اسی کھڑکی سے پارک کے نظارے دیکھ دیکھ کر ان کے بارے میں بتایا کرتا تھا جس سے میرے دل میں زندہ رہنے کی خواہش دوبارہ جاگی۔

نرس، سوچتے ہوئے: شاید وہ مریض تمہیں مایوسی سے نکال کر زندگی کی خوبصورتیوں کی طرف واپس لانا چاہتا تھا۔ ورنہ وہ تو یہاں دماغ کی رسولی کا شکار ہو کر اپنی زندگی کے آخری دن گزارنے آیا تھا اور اس رسولی نے اس کو مکمل طور پر اندھا کر دیا تھا۔ شاید مرتے مرتے اس کی یہی ایک نیکی ہی اسے جنت میں لے جانے کے لیے کافی ہو کہ اس نے تمہیں ایک نئی زندگی دے دی ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

One thought on “امید کی کہانی

  • October 16, 2015 at 1:08 pm
    Permalink

    واہ بہت عمدہ کہانی لکھے ۔انسان کی زندگی میں مثبت سوچ بہت معنی رکھتی ہے ۔بہت خوب ، جیتے رہیں

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published.