استاد ققنس زاغ پوری

amadmicaricatureb2 نام چقماق تھا اور تخلص ققنس۔  وطن مالوف امرتسر کے نواح میں واقع اہل ہنر کی ایک بستی زاغ پور۔  وہاں کے بنے ہوئے کوے کے پر کے تکیے ہندوستان بھر میں اپنی نرمی کے لیے اور وہاں کے رہنے والے بے پر کی اڑانے کے لیے مشہورہیں۔ وہاں شہر کے وسط میں قصاب خانے کے ساتھ واقع ان کی خاندانی حویلی کے آثار اب بھی باقی ہیں۔ ان کا تعلق ایک نامی خاندان سے تھا جو کہ اپنے آپ کو مغل بتاتا تھا اور روایت تھی کہ ان کے جد امجد خلد آشیانی شہنشاہ بابر کے لشکر کے ساتھ ماوراالنہر سے ہندوستان آئے تھے۔ نگڑدادا  پارچہ قصاب اپنے فن کے خاتم تھے۔ مشہور تھا کہ بڑے سے بڑے پلے ہوئے سانڈ کو اکیلے ہی ڈھا کر ذبح کردیتے تھے۔ ان کی شہرت کا سن کر بادشاہ دہلی جہاندار شاہ نے ان کو لال قلعہ میں بلایا اور اور بغدہ جہان خان کا خطاب دے کر مطبخ کے جانور ذبح کرنے پر معمور کیا۔ ملکہ ہند لال کنور، جو تاریخ میں لوگوں کا بیڑا غرق کرنے کے لیے نامی ہوئی،  ان کے فن کی خاص قدردان تھی اور خاص طور پر ان کو مصروف عمل دیکھنے کے واسطے بنفس نفیس مذبح خانے آتی تھی۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد اور اہل کمال کی طرح یہ نامی خاندان بھی گوشہ گمنامی میں چلا گیا۔ استاد محترم نام کے لیے اپنے زور بازو کے قائل تھے اور اجداد کے کارناموں کی اپنی ذات پر چھاپ نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ اسی لیے خاندانی نام کو ترک کر کے اپنے تئیں قریشی کہلانے لگے۔ فرماتے تھے کہ اسلاف کے فن پر کیا تکیہ کرنا، مزا تو اس میں ہے کہ آدمی اپنا مقام خود بنائے۔

 

ان کا پورا نام حضرت چقماق قریشی قلندری جلالی تھا۔ تخلص ققنس زاغ پوری کا اختیار کیا۔ بوٹا سا قد تھا، ایک جوان پلے ہوئے بکرے سے ایک ہاتھ اوپر نکلتا ہوا۔ جسم دھان پان سا۔ بیشتر دانت کثرت سے کچکچائے جانے کی وجہ سے شہید ہوگئے تھے۔ سر پر جوانی میں تو ایک بھرا پرا جنگل اگا ہوتا تھا، مگر پھر اس کے ساتھ بھی وہی ہوا جو جنگلوں کے ساتھ باقی جگہوں پر ہورہا ہے۔  لوگ تو خیر اس کی وجہ کچھ اور بتاتے ہیں مگر راقم کا خیال کچھ مختلف ہے۔ ہما شما کے سرپر تو خوش قسمتی سے ہی ہما بیٹھتا ہے، لیکن جب استاد محترم فکرسخن میں مشغول ہوتے تھے تو ان کے سر پر یہ پرند مستقل قیام کر کے اپنی بخت پر نازاں ہوتا تھا۔  ہر شعر پر یہ نازل ہوتا تھا اور اپنا رتبہ بڑھاتا تھا اور ہر چکر میں بطور تبرک ایک بال لے جاتا تھا۔ استاد محترم نے بے شمار شعر کہے، قدر ناشناس زمانے سے کچھ نہ پایا اور بہت کچھ کھویا اور فارغ البالی کا عالم طاری ہوا۔

 

وطن کی نسبت سے پنجابی تو ان کے گھر کی لونڈی تھی ہی، اردو میں انہوں نے جو لیاقت بہم پہنچائی اس پر حیرت ہوتی تھی۔ بغیر کسی دقت کے ر اور ڑ کا صحیح تلفظ ادا کرسکتے تھے۔  وطن مالوف لاہور اور دہلی کے بیچ میں تھا۔ شاید اسی لیے دونوں زبانوں کے اہل زبان میں بیٹھ کر عالموں کی طرح گفتگو کرسکتے تھے۔ اور انصاف کی بات ہے کہ غیر جانبداری سے ایک ایسا ہی شخص گفتگو کرسکتا ہے جس کا کسی معاملے سے اپنا مفاد وابستہ نہ ہو۔ اسی لیے دہلی یا لکھنو کی زبان کی لڑائی میں ایک غیر جانبدار عالم کی حیثیت سے فیصلہ دے دیتے تھے۔ ایک دفعہ کسی بزعم خود عالم نے ان کے سامنے ذکر کر دیا کہ دروازہ کھڑک رہا ہے۔ استاد محترم بے ساختہ بول اٹھے کہ یہ محاورے کے خلاف ہے، صحیح لفظ کھٹکنا ہے۔ اس نے کھڑکنے پر اصرار کیا تو فرمایا کہ میر و غالب کی سند پیش کریں۔ اس نے ایک شعر بطور سند پیش کردیا

 

نہ بولا ہم نے کھڑکایا بہت در

ذرا درباں کو کھڑکایا تو ہوتا

 

اسے بے خبر کو معلوم ہی نہیں تھا کہ کس درجے کے استاد سے محو کلام ہے۔  ساتھ ہی اترا کر بولا کہ بہادر شاہ ظفر  کا ہے، اردوئے معلی کی سند ہے۔   تس پہ استاد محترم مسکرائے اور بولے کہ یہ تو مہملات اور ہونقات میں سے ہے۔ ظفر کی زبان تو متروک ہوچکی ہے۔ کسی پنجابی شاعر کا کلام بطور سند لاوؑ جو اردو میں بھی شاعری کرتا ہو۔  ناقد اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ اس دن کے بعد سے راقم کو ایسے کان ہوئے کہ بربنائے احتیاط کھڑکی کو بھی کھٹکی لکھنے لگ گیا۔  بڑے بڑے شاعروں کو استاد محترم کے سامنے اسی طرح خفیف ہوتے دیکھا ہے۔ آخر میں تو یہ عالم ہوگیا تھا کہ جہاں استاد محترم نے کسی بحث میں حصہ لیا، آدھے لوگ ٹل جاتے تھے۔ کوئی شامت اعمال کا مارا اگر زبان دانی دکھاتا اور استاد محترم سند کا پوچھ بیٹھتے تو واقفان حال بے ساختہ مسکرادیتے کہ جانتے تھے کہ اب ناقد کی خفت کا وقت سامنے ہے۔ زبان کے بڑے بڑے عالم ان کا سامنا کرنے سے گھبراتے تھے کہ جانے کب کس لفظ یا محاورے کی سند طلب کرلیں۔

 

نام تو چقماق تھا ہی، اس نام کی تاثیر بھی ان کی زندگی میں جابجا نظر آتی تھی۔ خود بھی جلتے تھے اور دوسروں کو بھی جلاتے تھے۔ لیکن تعجب تو ان کے تخلص پر ہوتا ہے، کوئی الہامی لمحہ ہی ہوگا جب اسے اختیار کیا۔  ققنس زاغ آبادی کے نام سے شاعری کی اور حق بات یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی تخلص ان پر جچتا بھی نہیں۔ زاغ کی طرح کثرت کلام کی۔ دوسروں کی اصلاح پر ہمیشہ کمر بستہ رہے اور کسی بھی بحث میں کود پڑتے تھے۔ پھر اگر دوسرا کتابوں یا اساتذہ کی شاعری سے دلیل لاتا تو آزردہ ہوجاتے تھے کہ ہم جیسے اہل زبان کے ساتھ یہ گستاخی اور اٹواٹی کھٹواٹی لے کر پڑ رہتے تھے۔ پھر کچھ عرصے بعد دوبارہ نئے سرے سے حوصلہ پکڑ کر دوبارہ اصلاح شروع کردیتے تھے۔ ققنس کا بھی تو یہی طریق رہا ہے۔ گانا شروع کردیتا ہے۔ اپنے گانے کی تپش جب خود اس تک پہنچتی ہے تو جل کر راکھ ہوجاتا ہے، اور پھر اسی راکھ سے ایک دوسرا جنم لیتا ہے اور دوبارہ گانا شروع کردیتا ہے۔ استاد محترم  استعاری ہی نہیں، لغوی معنوں میں بھی ققنس ہی ٹھہرے تھے۔

 

استاد چقماق قریشی ققنس زاغ پوری نے طبیعت نہایت موزوں پائی تھی۔ کلام میں چقماق کی آتش بھی نظر آتی تھی اور زاغ کی کثرت کلام بھی۔ اسی سبب ان کا کلام کسی جریدے یا کتاب کی زینت تو نہ بن پایا کہ جس کسی کو بھی بھیجتے تھے، جل جاتا تھا۔ کلام کو صفحہ قرطاس پر لانے سے گھبراتا تھا کہ اشاعت کے بعد کہیں آگ ہی نہ لگ جائے غزل کے اس کاغذی پیرہن کو۔ مخطوطہ جات کی صورت میں البتہ ان کا وسیع ذخیرہ محفوظ تھا۔

 

شاعری میں تو ان کو کمال حاصل ہی تھا۔ یہ مخطوطات دیکھ کر آدمی ان کی خطاطی پر حیران رہ جاتا ہے۔ اس فن میں بھی شاعری کی طرح کسی کے باقاعدہ شاگرد نہ ہوئے، لیکن جو کمال بہم پہنچایا اس پر سب تعجب کرتے تھے۔ ان کی مشکل پسند طبیعت نے یہاں بھی فن خطاطی کی گنجلگ اور پیچیدہ راہ چنی اور خط شکستہ کو ہی ذریعہ اظہار بنایا۔ اس فن میں وہ صنعت بہم پہنچائی کہ بڑے بڑوں کو پیچھے چھوڑ گئے۔ اس خط کے دوسرے ماہر تو اس بات پر ہی اتراتے ہیں کہ ان کا لکھا دوسرے نہیں پڑھ پاتے ہیں، لیکن استاد محترم نے اس فن میں وہ درجہ حاصل کیا کہ ان کا لکھا دوسرے کیا، وہ خود بھی نہیں پڑھ پاتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے اپنی تازہ غزل راقم کو عنایت کی۔ اسی شام راقم کو دوا خریدنے کے لیے فارمیسی جانا پڑگیا۔ دوا کے لیے فارمیسی والے نے نسخے کی فرمائش کی۔ نسخہ گھر میں رہ گیا تھا اس لیے راقم نے وہی غزل اس کو پیش کی۔ وہ اس کاغذ کو کچھ دیر تک دیکھا کیا اور پھر مطلوبہ دوا دے دی۔ اس سے راقم کو حوصلہ ہوا اور ایک مہینے تک اس کو ٹرین کے پاس کے طور پر استعمال کرتا رہا۔ ملازمت کے سلسلے میں اسی غزل کو مقامی وزیر کے سفارشی رقعے کے طور پر پیش کیا اور ملازمت پائی۔ پھر ہمسائے کا لڑکا بیمار ہوا تو ایک مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ گھر میں کوئی مرد نہیں تھا اور پیر صاحب سے تعویز لے کر آنا تھا۔ وہی کاغذ چمڑے میں سلوا کر گلے میں پہنا دیا تو اس نے شفا پائی۔ مختصر یہ کہ ان کے قلم سے الفاظ نہیں، معجزات نکلتے تھے۔

 

استاد محترم مشاعروں میں شرکت سے اجتناب ہی برتتے تھے۔ ہلے گلے اور شور و غوغا سے ان کی طبیعت گھبراتی تھی۔ مشاعرے والے بھی ان کے مزاج کو دیکھتے ہوئے ان کو شرکت کا رقعہ بھیجنے سے احتراز کرتے تھے۔ لیکن آخری مشاعرہ جس میں انہوں نے شرکت کی وہ آج بھی روز اول کی طرح راقم کے ذہن و دل پر نقش ہے۔ مشاعرہ گاہ کے باہر سے گزرتے ہوئے ناگاہ استاد محترم کی نگاہ اشتہار پر پڑ گئی۔ وقت دیکھا تو وہی تھا۔ غیبی اشارے کو جان کر راقم نے اپنی سائکل ہال کی طرف موڑ لی۔ استاد محترم اترے اور دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ سٹیج پر ایک ناسمجھ سا لونڈا سیکرٹری کے فرائض نبھانے کے لیے کھڑا تھا۔ اسے استاد محترم نے یک جنبش دست ایک طرف کیا اور اپنی مشہور غزل پڑھنا شروع کی۔ پہلا ہی مصرع پڑھا تھا کہ ہال میں جو کہ اب تک مچھلی منڈی بنا ہوا تھا، یکلخت سناٹا چھا گیا۔ 

 

درد ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے

 

استاد محترم نے فاتحانہ نظروں سے خاموش سامعین کی طرف دیکھا جو کہ گویا سکتے کے عالم میں تھے اور شعر مکمل کردیا۔

 

میرے کلام کے سب اسیر ہوئے

 

راقم کی عمر اب ڈھل چکی ہے۔ بچپن اور جوانی قصہ پارینہ ہوئے ہیں۔ اس طویل عمر میں راقم نے بے شمار مشاعروں اور مجالس میں شرکت کی ہے۔ لیکن خدا گواہ ہے کہ ایسا غدر کبھی نہیں دیکھا جو اس بے مثال شعر کے مکمل ہونے پر بپا ہوا۔ لوگ باگ بے تحاشا پھٹ پڑے۔ داد ہی داد تھی۔ ہر شخص بول رہا تھا۔ گو کہ الفاظ سمجھ نہیں آرہے تھے لیکن لوگوں کے تمتماتے ہوئے چہرے اور بے ساختہ لہراتے ہوئے بازو ایک عجب منظر پیش کر رہے تھے۔ جس کے ہاتھ میں جوآرہا تھا لہرا رہا تھا اور سٹیج پر نچھاور کر رہا تھا۔ پھول، پتیاں، ٹماٹر، کفش، جو جس کو ملا، اس نے استاد محترم پر نثار کردیا۔ مشاعرے کے منتظمین نے یہ رنگ دیکھا تو استاد محترم کو عقبی دروازے سے باہر نکال دیا کہ اب اس ایک شعر کے بعد کلام ختم ہوگیا ہے۔ اب کسی اور کا رنگ نہیں جمے گا۔ لیکن اخبار والوں کی ذہنیت تو دیکھیں کہ اپنی اشاعت بڑھانے کے لیے کیا بے پر کی اڑاتے ہیں۔ رائی کا پربت اور پر کا کوا بناتے ہیں۔  اگلے دن بربنائے جہالت چھاپ دیا کہ میر کا بھونڈا سرقہ ہے۔   جس کو سرقے اور توارد میں فرق نہ پتا ہو اس سے کیا بحث کیجے۔ استاد محترم نے دیکھا تو دلگرفتہ ہوئے اور فرمایا

 

جس پر اس بار نے گرانی کی

یہاں اس کو یہ ناتواں چبھتا ہے

ہرنی ققنس بھاری پتھر ہے

کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

 

پھر دانت کچکچا کر یکایک ایک جلالی سی کیفیت میں بولے

 

اتنا غصہ بھی مجھے زیب نہیں ھے ورنہ

تیرے ٹکڑے تو میں زاغوں کو کھلا کر رھتا

 

یہ کہ کر تخلیے کا اشارہ کیا۔ اگلے دن راقم دوبارہ ان کے مکان پر گیا تو معلوم ہوا کہ راتوں رات کسی کو پتہ نشان بتائے بغیر شہر سے کوچ کرگئے ہیں۔ ان کا حساس دل اہل شہر کی تنقید برداشت نہ کرسکا۔ وہ باکمال شخص جو بلامعاوضہ، بلا دعوت، ہر شخص کی زبان سنوارتا تھا، یہ سلوک برداشت نہ کرسکا۔

 

خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم

انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو



Leave a Reply

Your email address will not be published.