بس یادیں باقی رہ جاتی ہیں

dead bird

دور کسی دیس میں ایک پرندہ ہوا کرتا تھا۔ آزاد پرندہ۔ ہر غم، ہر فکر سے بے نیاز ہو کر وہ کھلے آسمانوں میں اڑتا۔ ہوا میں اڑتے چھوٹے چھوٹے کیڑے پکڑ کر کھاتا اور زندگی کا لطف لیتا۔

ایک دن اسے خیال آیا کہ اسے ایسی بے فکری میں اپنی زندگی ضائع نہیں کرنی چاہیے۔ اسے ایک ذمہ دار پرندے کی حیثیت سے اپنی خوشیاں اور اپنے غم سنبھال کر رکھنے چاہئیں۔ اب وہ معصوم پرندہ پڑھنا لکھنا تو جانتا نہیں تھا کہ اپنی ڈائری لکھ لیتا۔ لیکن تھا وہ بڑا سیانا۔ اس نے سوچا کہ جب بھی اسے کوئی خوشی یا غم ملے گا، تو اسے ہمیشہ یاد رکھنے کے لیے وہ اس کی یادگار کے طور پر ایک کنکر اٹھا کر اپنے پاس رکھ لیا کرے گا۔ یادوں کے اس خزانے کو رکھنے کے لیے اس نے ایک تھیلی لی اور جب بھی اسے کوئی چیز اچھی یا بری لگتی، وہ اسی تھیلی میں ایک نیا کنکر اس کی یادگار کے طور پر رکھ لیتا۔

ہر شام کو وہ اپنی یادوں کی پٹاری کھولتا اور اچھی یادوں والے کنکروں کو دیکھ کر خوش ہوتا اور بری یادوں کو دیکھ کر غمگین ہوتا۔ یہ اس کی ایک پختہ عادت بن گئی۔ جیسے جیسے اس کے پاس یادیں جمع ہوتی گئیں، اس کی تھیلی کا وزن بڑھتا گیا۔ وہ اب زیادہ دور تک نہ اڑ سکتا تھا۔ اور پھر ایک دن یادیں اتنی زیادہ ہو گئیں کہ وہ اڑنے سے لاچار ہو گیا۔

وہ ابھی بھِی آزاد تھا، مگر اب وہ اڑ نہیں پاتا تھا۔ وہ بس زمین پر چلتا تھا۔ کبھی کبھار کوئی کیڑا مکوڑا نظر آ جائے تو اس کو کھا کر پیٹ کی آگ بجھا لیتا تھا۔ کبھی بارش ہو جائے یا اوس زیادہ پڑ جائے تو چونچ بھر پانی پی لیتا تھا۔ لیکن اس نے ان سب مشکلات کے باوجود اپنی یادوں سے جدا ہونا گوارا نہ کیا۔

پھر ایک دن وہ بھوک اور پیاس سے نڈھال ہوا اور اپنی یادوں کے ڈھیر پر گر کر مر گیا۔ وہاں کچھ بھی باقی نہ بچا۔ بس ایک ننھا سا پروں کا ڈھیر تھا اور کچھ بیکار سی کنکریاں۔

عدنان خان کاکڑ

 (دیس بدیس کی حکایات)

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.